Muhammad's profileQasraniPhotosBlogListsMore ![]() | Help |
|
02 February ابتدا پارٹ ٹوتو جناب، جب پہلا دن اچھا گزرا تو شام کو میں کالج گیا، جہاں میری بی سی ایس کی کلاسز تھیں (دن کو میں نے خود ہی بی کام سے چھٹی کر لی تھی)۔ خیر کالج جا کر دوستوں کو بتایا۔ بتایا کیا جرمانہ بھرا۔ ہم لوگوں نے اس کو جرمانے کا نام دیا ہوا تھا۔ جرمانے سے مراد کچھ ہلکا پھلکا کھانے کی ٹریٹ وغیرہ۔ اب کچھ عرصہ تو میرے اور طیب کے کمپیوٹرز درست چلتے رہے۔ میری سوچ گھومی اور میں نے سوچا کہ یار ونڈوز کو کیوں نہ خود سے انسٹال کرکے دیکھوں۔ خیر ونڈوز 98 انسٹال کی، لیکن آواز ختم اور تصویر بہت بری ہوگئی۔ میں نے عابد صاحب کو پھر سے پکڑا۔ انہوں نے پوچھا کہ ڈرائیورز انسٹال کیے؟ میں نے کہا وہ کیا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابے الو کے کان، وہ یہی چیز ہوتے ہیں جن کے نہ ہونے کا تم شکوہ کر رہے ہو۔ خیر انہوں نے شام کو چکر لگایا اور ڈرائیورز انسٹال کر دیئے۔ ساتھ ہی بتا بھی دیا کہ کیا ہیں اور کیسے انسٹال ہوتے ہیں۔ میرا مدر بورڈ ٹی ایکس پرو ٹو اور پروسیسر سائریکس دو سو تینتیس میگا ہرٹز تھا۔ بتیس ایم بی ریم اور چار اعشاریہ تین گیگا بائٹ کی ہارڈ ڈسک۔ مسئلہ یہ بھی تھا کہ مدر بورڈ کی سی ڈی غلط ملی تھی۔ وہ ٹی ایکس پرو مدر بورڈ کی سی ڈی تھی۔ ایسر کی بتیس ایکس کی سی ڈی روم۔ ایک دن ہمارے ایک ہمسائے جناب ڈاکٹر مظفر علی قلندرانی صاحب کے کمپیوٹر کا مسئلہ درپیش ہوا۔ ڈاکٹر مظفر صاحب مشہور کارڈیالوجسٹ یعنی امراض دل کے ماہر ہیں۔ ان کے بیٹے فہد نے بتایا کہ منو بھائی (میرا نک نیم)، ہمارا کمپیوٹر خراب ہے۔ اس کی آواز کام نہیں کرتی۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا۔ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ونڈوز انسٹال کی ہیں۔ تب سے ساؤنڈ کام نہیں کرتی۔ میں نے دیکھا تو ڈرائیورز گم تھے۔ خیر ہمارے کالج کے ساتھ ایک کمپیوٹر شاپ تھی، اس میں ایک دوست انعام بھائی ہوتے ہیں، ان سے مدد طلب کی۔ وہ آئے اور انہوں نے دیکھا، ایک سی ڈی لگائی اور ڈرائیور انسٹال کیا، اور دو سو روپے لے کر چلے گئے۔ میں نے تفصیل پوچھی تو انعام بھائی نے بتایا کہ ساؤنڈ کارڈ کا ڈرائیور نہیں تھا۔ اس لئے مسئلہ ہو رہا تھا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، روز بروز نت نئے تجربات سے سیکھنے کا عمل بڑھتا رہا۔ ونڈوز کی انسٹالیشن اور رہنمائی کے لئے مجھے سب سے زیادہ جنہوں نے متائثر کیا، وہ ہیں میرے کزن جناب سردار قیصر خان پتافی۔ ملتان ہوتے ہیں یہ بھائی۔ ایک دن جب میں اپنے کمپیوٹر کو کسی مسئلے کی وجہ سے ملتان لایا ہوا تھا تو قیصر بھائی نے میرا سسٹم دیکھا اور پوچھا کہ منو بھائی، آپ نے ونڈوز 98 کیوں رکھی ہوئی ہے؟ آپ کے سسٹم کا تو بٹھہ بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ کام اچھا کرتی ہے، اس لئے ونڈوز 98 رکھی ہوئی ہے۔ قیصر بھائی نے ایک ایسی بات کہی، جس سے مجھے لگاکہ واقعی، بندہ لاجواب ہو کر کیسا محسوس کرتا ہے۔ قیصر بھائی نے کہا کہ "یار، کمپیوٹر کا کام ہی اس کی رفتار ہے۔ اگر ونڈوز کی وجہ سے اس کی رفتار کم ہو، تو ایسے کمپیوٹر کا فائدہ؟" یہ بات میرے دل کو لگی، اور اس دن سے میں نے ونڈوز95 یا 97 کو ترجیح دی۔ قیصر بھائی کی سب سے بڑی خوبی ان کا دھیما پن اور سمجھانے کا انداز ہے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا یہ تو میں بتانا ہی بھول گیا کہ اسی دوران ایک ہفتےکے بعد ہی میرا سسٹم چلتے چلتے رک گیا۔ ملا کی دوڑ مسجد تک اور میری دوڑ عابد صاحب تک۔ میں نے عابد صاحب کو پکڑا۔ عابد الیاس صاحب کی ایک خوبی کا تذکرہ کرتا چلوں جو سب سے اہم ہے۔ چاہے ہم لوگ انہیں رات کو دو بجے بھی کال کرتے، وہ مسکراتے آتے اور ہمارا کمپیوٹر ٹھیک کرجاتے، بلا معاوضہ۔ جی ہاں، بلا معاوضہ۔ خیر عابد صاحب نے دیکھا اور کہا کہ اسے ملتان لے جاؤ۔ وارنٹی کا کیس ہے۔ خیر اگلے دن میں ملتان لے گیا۔ پتہ چلا کہ ریم اور مدر بورڈ داغ مفارقت دے چکے ہیں۔ خیر شام ہوتے ہوتے دوسرا مدر بورڈ اور دوسری ریم مل گئی۔ ملتان میں ہماری ڈیلنگ بہت اچھے بندوں سے تھی، اس لئے کبھی مسئلہ نہ ہوا۔ میں نے اور طیب نے سوائے کیسنگ کے، تقریباً ہر چیز بدلی تھی۔ حتیٰ کہ کی بورڈ اور ماؤس تک وارنٹی شدہ تھے مانیٹر تو طیب نے دو بار اور میں نے ایک بار تبدیل کیا۔ 01 February ابتداکمپیوٹرز سے میرا ابتدائی تعلق ۱۹۹۳ میں ہوا جب میں نے میٹرک کے بعد کمپیوٹر کا شارٹ کورس کیا۔ کافی ایکٹو تھا۔ لیکن جب کورس ختم ہوا تو سب کچھ بھول بھال گیا۔ پھر ایک دوست محمد طاہر نے اپنی گولڈ سمتھ کی دوکان کے لئے ایک کمپیوٹر خریدا۔ ۱۹۹۵ کی بات ہوگی۔ اس وقت ایک ۴۸۶ کمپیوٹر چالیس ہزار روپے میں ملا۔ اس کے بعد اس دوست کے ساتھ مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے۔ یعنی دوست نے سوچا کہ مجھے جس پروگرام کی صرف ایک فلاپی ڈسک ملی ہے، اگر وہ خراب ہو جائے تو میں کیا کروں گا؟ اس سلسلے میں اس نے میری مدد لی۔ میں نے اسے کمپیوٹرز کی الف بے سے آگاہ کیا کیونکہ تب تک میری اپنی معلومات الف بے کی حد تک محدود تھیں ۱۹۹۹ میں میں نے ایف ایس سی کے بعد پلان کیا کہ اب کیا کرنا ہے۔ والد صاحب نے کہا کہ بیٹا جی کچھ تو کرو۔ ماموں نے کہا کہ بی کام کرو۔ بہت اچھا رہے گا۔ کسی نے کچھ مشورہ دیا کسی نے کچھ۔ والد صاحب کی ایک کولیگ تھیں، ڈاکٹر کرس۔ جرمن ڈاکٹر اور بہت مشہور سرجن ہیں۔ راول پنڈی میں لیپروسی کلینک ہے۔ ادھر ہوتی ہیں۔انہوں نے انہی دنوں ایک میڈیکل کا کورس شروع کرایا تھا اور ابو کو بتایا کہ اگر میں داخلہ لینا چاہوں۔ لیکن پھرتے پھراتے ایک دن ایسا ہوا کہ ہمارے فون بل میں کوئی مسئلہ ہوا۔ ابو نے سوچا کہ ایک جاننے والے ہیں۔ ان سے ڈسکس کیا جائے۔ لشٹم پشٹم ابو اور میں اس جاننے والے کے گھر گئے۔ پتہ چلا کہ وہ صاحب ابھی کسی کورس پر گئے ہوئے ہیں۔ بعد میں جب ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ دوست بی سی ایس کرنے گئے ہوئے تھے۔ خیر کئی دن گزرے تو ماموں نے پھر زور دیا کہ بی کام کرو۔ میں نے داخلوں کا پتہ کیا تو ڈیٹ گزر چکی تھی۔ اگلے داخلے کوئی دس ماہ بعد تھے۔ ابو نے ایک دن پوچھا تو میں نے برسبیل تذکرہ کہہ دیا کہ میں بی سی ایس کروں گا۔ پہلے تو والد صاحب گھبرائے پھر چکرائے پھر مسکرائے اور بولے۔ بیٹاجی یہ بی سی ایس ہوتی کیا ہے۔ اب میں گبھرایا، پھر چکرایا اور پھر مسکرایا کہ معلوم نہیں۔ ابو بڑا ہنسے اور بولے کہ اچھا پتہ کرو کہ کیا ہوتی ہے۔ یہاں پھر میرے کزن انجم بھائی میرے کام آئے۔ وہ اور میں بھاگا بھاگ ادھر ادھر معلومات لینے دوڑے بھاگے۔ پھر بالآخر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ساری معلومات ملیں۔ لیکن مسئلہ پھر وہیں کہ داخلے گزر چکے۔ اگلے داخلے پھر چھ ماہ کے بعد۔ داخلے سے تین ماہ قبل ہمیں پتہ چلا کہ میری ایف ایس سی پری میڈیکل ہے۔ اس لئے مجھے ایڈیشنل میتھ کا پرچہ دینا ہوگا، ورنہ داخلہ نہیں ملے گا۔ میرا ایک دوست زاہد اقبال اور میں اس فکر میں کہ اب کیا کریں۔ خیر ہم لوگوں نے مل جل کر ایک ٹیچر صاحب سے ملاقات کی، ان سے وقت لیا اور پھر روزانہ ان سے پڑھنے جانے لگے۔ میرا میتھ یعنی حساب اتنا بہترین ہے کہ میٹرک میں ۳۷ نمبر تھے، سو میں سے۔ لیکن خیر میں نے ایک گر پالیا کہ اگر سمجھنا ہے تو اسے سمجھانا بھی ہے۔ ہر روز ٹیوشن پر جانے سے قبل زاہد میرے گھر آجاتا اور میں اور وہ مل کر میتھ کرتے۔ میں اسے سمجھاتا اور اس سے پہلے خود سمجھ جاتا۔ پھر زاہد نے ایک اور ٹیچر جناب محمد یونس کو بھی ڈھونڈا تاکہ ان سے ہم کمپیوٹرز کی الف بے باقاعدہ بی سی ایس کے حوالے سے سیکھ سکیں۔ جناب محمد یونس صاحب نے (جنہیں اب ہم پیار سے یونس صیب کہتے ہیں) سے کچھ دن تعلیم حاصل کی۔ خیر جب داخلے کا وقت آیا تو ابو کا اصرار کہ بی کام اور بی سی ایس کے داخلے دونوں لوں۔ ورنہ اگر ایک طرف داخلہ نہ ملا تو پھر دوسرے داخلے کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔ خیر داخلے بھر دیئے۔ بالترتیب بی کام اور سی ایس کی کلاسز ایک ماہ کے وقفے سے شرو ع ہو گئیں۔ اب صورتحال یہ تھی کہ میں صبح نماز کے وقت اٹھتا، بی کام کی ٹیوشن پر جاتا، اس کے بعد بی کام کی کلاسز پر جانا، اس کے بعد پھر بی کام کی ٹیوشن پھر بی سی ایس کی کلاسز۔ گھر عشا کی نماز کے بعد واپسی ہوتی۔ اس سے یہ مسئلہ کھڑا ہوا کہ گھر آکر کسی بھی چیز کو پڑھنے کا وقت بالکل نہ ملتا۔ یہ روٹین کوئی ڈیڑھ سال چلی۔ اس دوران ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کی بجائے چائےہوتی تھی اور پھر رات کا کھانا البتہ ڈٹ کر کھاتا۔ اس دوران مزے کی صورتحال یہ تھی کہ میرے امتحان آئے۔ اب صورتحال کچھ ایسے تھی کہ صبح کو پی کام کا پرچہ اور پھر دو گھنٹے کی بریک پھر بی سی ایس کا پرچہ۔۔۔ شکر ہے کہ بی سی ایس کے صرف چار پیپرز تھے اور بی کام کے زیادہ۔ یہاں تک سب کچھ نارمل تھا، لیکن یہاں ۲۰۰۰ میں ایک گڑ بڑ ہوئی۔ میں نے ابو سے کہا کہ مجھے کمپیوٹر درکار ہے۔ ابو جی نے کہا کہ بیٹا لے لو۔ کتنی پیسے درکار ہیں، میں نے کہا کوئی تیس ہزار کے لگ بھگ۔ انہوں نےچیک پکڑا دیا۔ میں اور میرا دوست، سید طیب رضا شاہ، جو میرا بھائی بھی ہے اور میرا سب سے بہترین دوست بھی، وہ بھی پی سی خریدنے کے لئے تیار ہوگیا۔ ہم لوگ ملتان کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ ہمارے ٹیچر جناب الطاف حسین صاحب بھی ہمراہ تھے۔ خیر ہم نے پی سیز خریدے اور رات کو کوئی دو بجے واپس ڈیرہ غازی خان پہنچے۔ شاہ جی (طیب) نے اپنا پی سی میرے گھر رکھا اور وہ خود اپنے کزن کے گھر چلا گیا۔ اگلے دن سے ہمارے "مصائب" کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ میرے پھوپھا جناب محترم اللہ بخش قیصرانی صاحب ہمارے گھر آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑا اشتیاق ظاہر کیا کہ بھئی منصور خان، اپنا کمپیوٹر تو دکھاؤ۔ میں نے فوراً سے پیشتر پیکنگ کھولی اور سب کچھ سیٹ کرکے چلا دیا۔ یہاں آکر کچھ گڑ بڑ ہوگئی۔ سکرین ساری بلری ہوگئی۔ اب اتنا تو چار پانچ ماہ کے دوران سیکھ ہی لیا تھا (بی سی ایس کے دوران) کہ ایسے روز مرہ کے مسائل سے کیسے نپٹنا ہے۔ میں نے فوراً اندازے سے ڈیسک ٹاپ پر رائٹ کلک کیا، پراپرٹیز میں جا کر سکرین ریزولیوشن کم کردی۔ سب کچھ ایک دم فٹ۔ پھوپھا نے دیکھا، بہت خوش ہوئے اور پھر وہ چلے گئے۔ اب میں نے فوراً اپنے سینئر سے رابطہ کیا کہ یہ کیا ہوا۔ ان کا نام جناب محترم عابد الیاس ہے۔ وہ اپنے ویسپا پر فوراً سے پیشتر تشریف لائے اور اسی دوران طیب بھی آگیا۔ اس کے ساتھ بھی یہی مسئلہ۔ کافی مغز خوری کرکے پتہ چلا کہ ونڈوز ۹۸ کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ ایل جی کے مانیٹر کے ساتھ سکرین موڈ صرف چھ سو چالیس ضرب چار سو اسی کو سپورٹ کرتا ہے۔ اگر ہم آٹھ سو ضرب چھ سو سکرین کی ریزولیوشن رکھنا چاہیں تو وہ ایل جی مانیٹر کےساتھ نہیں چلے گا۔ اب نئے کمپیوٹر پر پہلے دن یہ مسئلہ ہو کہ آپ کو مانیٹر تبدیل کرنا پڑے، کافی مشکل کام ہے۔ خیر ہمارے سینئر صاحب جناب عابد الیاس صاحب نے بہت مدد کی۔ ہر ہر قدم پر رہنمائی اور مدد کی اور ہمیں سمجھایا کہ کیسے اس مسئلے کو ٹیکل کرنا ہے۔ باقی آئیندہ |
|
|