Muhammad's profileQasraniPhotosBlogListsMore ![]() | Help |
|
17 June Talking about یونس صیب
Quote یونس صیب یونس صیبدوست کہوں، بھائی کہوں، استاد کہوں کہ کیا کہوں۔ شاید صرف ایک نام کافی رہے، یونس صیب۔ میرے انتہائی محترم، انتہائی قابل قدر اور انتہائی محنتی دوست، استاد، بھائی یونس صیب ہیں۔ ان سے میرا پہلا تعارف بی سی ایس کی کلاسز شروع ہونے سے پہلے ہوا۔ کیسے ہوا، اس کا مختصر ذکر دوبارہ کر دیتا ہوں۔ بی سی ایس میں میرے پیارے دوست زاہد اقبال نے میرے ساتھ داخلہ لیا۔ ساتھ کیا داخلہ لیا، میرے ہی کہنے پر داخلہ لیا۔ کمپیوٹر کی الف بے سے ہم دونوں ہی واقف تھے اور یہ الف بے محض الف بے ہی تھی۔ میتھ سے ہم دونوں کی پیدائشی نفرت بھی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائی تھی۔ زاہد کا خیال تھا کہ بی سی ایس میں ہی ہے کمپیوٹر یا میتھ، کیوں نہ کمپیوٹر کی بنیاد اور ریاضی کی ابتدا کلاسز شروع ہونے سے قبل ہی کر دی جائے۔ ریاضی کا ذکر بعد میں سہی، پہلے کمپیوٹر کا ذکر۔ زاہد نے بتایا کہ اس کے ایک جاننے والے ہیں طیب شاہ صاحب، انہوں نے کمپیوٹر ٹیچر ریفر کیا ہے۔ ہم دونوں ہی بھاگم بھاگ روانہ ہوئے۔ پتہ چلا کہ وہ یونس صاحب ہیں اور گدائی میں رہتے ہیں۔ گدائی ڈیرہ غازی خان کے جنوب مغرب میں الگ موضع تھا جو اب شہر کا حصہ بن چکا ہے۔ گدائی شمالی اور گدائی جنوبی اس کے حصے ہیں۔ وہاں جا کر ہم نے بمشکل ہی یونس صیب کا گھر تلاش کیا۔ وہاں گھر تلاش کرتے کرتے ایک بندے سے جب ہم نے پوچھا کہ یونس صاحب کا گھر کہاں ہے تو اس نے پہلے تو کہا کہ نہیں معلوم، پھر بولا کہ اچھا، یُنسے کا پوچھ رہے ہو۔ مجھے کافی عجیب لگا کہ ہیں؟ استاد کی یہ عزت؟ پھر سوچا کہ چھوڑو یہ تو جاہل آدمی ہے بے چارہ۔ دوسرا یہ کہ ضروری نہیں کہ میرے لئے محترم اور قابل عزت استاد کے بچپن کے لنگوٹیئے انہیں اپنی مرضی کے نام سے نہ پکار سکیں؟ یونس صاحب سے ملے، سلام دعا ہوئی اور ان سے ملاقات کا پہلا تائثر یہی رہا کہ کافی سخت، خاموش طبع اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان ہیں۔ انہوں نے کمپیوٹر کے بارے کچھ مختصر سا پڑھایا بھی۔ اس طرح دو تین دن ان سے ملاقات ہوئی، ان سے کچھ تعلیم پائی۔ پھر اس کے بعد بی کام کی وجہ سے میں مصروف ہو گیا۔ جو مضمون ہم یونس صاحب سے پڑھتے تھے، اس کی کتاب بہت اچھی، آسان اور مزے کی تھی۔ اس لئے میں سُست ہوتا گیا اور یہ تعلیمی سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اس وقت کی مصروفیت سے مجھے یونس صاحب سے نہ پڑھ سکنے کا زیادہ افسوس نہ ہوا تاہم چند برس بعد جا کر یہ سوچ آئی کہ اگر اس وقت یہ سلسلہ جاری رہتا تو یقیناً میں اس سے کئی گنا زیادہ جان جاتا جو میں اب جانتا ہوں۔ خیر، میری ذاتی رائے ہے کہ تعلیم کا حصول رزق کے حصول کی مانند ہے۔ جب، جہاں اور جتنی مقدار میں لکھی گئی ہے، تب، وہیں اور اتنی ہی مقدار میں ملے گی۔ بی سی ایس کی کلاسز کا آغاز ہوا تو یونس صاحب سے کم اور عابد الیاس صاحب سے زیادہ سلام دعا ہوئی۔ عابد صاحب کمپیوٹر لیب میں ہمارے مشترکہ استاد محترم جناب مرزا یاسر عرفات صاحب کے ڈائرکٹ اسسٹنٹ تھے۔ کمپیوٹر سےنئی نئی سلام دعا ہمارے لئے کافی دلچسپی کا باعث تھی۔ دوسرا ہر وقت کوئی نہ کوئی کمپیوٹر آپریشن یا پوسٹ مارٹم کے مرحلے سے گذر رہا ہوتا تھا۔ اس طرح بہت کچھ سیکھنے کو مل جاتا تھا۔ بی سی ایس کے دوسرے سمسٹر میں یونس صاحب سے زیادہ تفصیلی گپ شپ ہوئی۔ ان کا انداز دوستانہ اور مربیانہ جبکہ میرا اور زاہد کا انداز کچھ فدویانہ سا ہوتا تھا۔ یونس صاحب اور میری عمر میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین سال کا فرق ہوگا یعنی یونس صاحب مجھ سے زیادہ معمر ہیں :P یونس صاحب سے زیادہ تفصیلی گپ شپ تیسرے سمسٹر میں ہوئی اور چوتھے سمسٹر میں ہم گہرے دوست بن گئے۔ تاہم اس دوستی میں احترام کا جذبہ غالب تھا اور ابھی تک ہے۔ شاید ہی انہوں نے کبھی مجھے صرف منصور کہہ کر مخاطب کیا ہو، ورنہ ہمیشہ منصور صاحب کہتے ہیں یا پھر منصور بھائی۔ میں نے انہیں ہمیشہ ہی یونس صاحب کہا ہے۔ تاہم ہمارے تعلقات گہرے دوستوں کی طرح کے ہیں۔ ان دنوں یعنی تیسرے سمسٹر کے دوران یونس صاحب خواجہ غلام فرید انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنسز میں آ گئے تھے۔ یہاں وہ آل ان آل تھے۔ میرا مانیٹر خراب ہوا تو میں ان سے ایک مانیٹر ادھار لینے چلا گیا۔ ہماری بہت زیادہ گپ شپ نہ ہونے کے باوجود بھی انہوں نے مہربانی کرتے ہوئے مانیٹر دے دیا۔ چند دن بعد میرا اپنا مانیٹر ٹھیک ہوا تو میں انہیں مانیٹر واپس کر آیا۔ |
|
|