Muhammad's profileQasraniPhotosBlogListsMore Tools Help

Blog


    04 March

    ٹیچنگ پارٹ ٹو

    جی جناب، تو ہماری گفتگو کا سلسلہ یہاں تک پہنچا تھا کہ بی سی ایس کے پہلے سمسٹر میں اساتذہ کون تھے

    جناب فرحان کریم خان جسکانی، مشہور ماہر تعلیم جناب کریم نواز خان جسکانی صاحب کے فرزند ارجمند ہیں۔ ٹیچنگ انہیں وراثت میں ملی ہے۔ ان سے ہماری پوری کلاس کی بہت اچھی گپ شپ رہی۔ انہوں نے کمپیوٹر کے سلسلے میں ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں چلنا سکھایا۔ ان کے علاوہ جناب الطاف حسین صاحب تھے، جو صرف ایک مضمون یعنی آپریٹنگ سسٹم پڑھاتے تھے۔ قاضی طارق صاحب ہمیں کیلکولس پڑھانے آتے تھے۔ جناب مرزا یاسر عرفات صاحب ہمیں ایکسل اور جناب مرزا آصف صاحب ہمیں اکاؤنٹنگ کا مضمون پڑھاتے تھے۔

    فرحان صاحب کے بارے میں کچھ کہہ چکا، اب باری ہے جناب الطاف صاحب کی۔ جناب الطاف صاحب سے پہلے دن پرنسپل آفس میں ملاقات ہوئی۔ فرحان صاحب نے مذاق میں ہمیں کہا ہوا تھا کہ الطاف صاحب بہت سنجیدہ اور بہت سخت استاد ہیں۔ لیکن بہت اچھے استاد ہیں۔ ہم سب بہت ڈرے ہوئے، کیونکہ فرحان صاحب کے لیکچر کئی دن سے سن رہے تھے اور ان سے مانوس ہو چکے تھے۔ نئے استاد محترم سے ڈر لگتا تو فطری بات تھی نا۔ خیر الطاف صاحب نے سلام دعا کے بعد کہا کہ کل فلاں وقت آجانا۔ کلاس ہوگی۔ الطاف صاحب نے پہلے ہی لیکچر سے اپنی وہ دھاک جمائی کہ سب کلاس کے منہ پر ایک نام، الطاف صاحب الطاف صاحب۔ کوئی مسئلہ ہو، کسی بھی مضمون کا ہو، الطاف صاحب سے پوچھیں۔ کلاس میں ایک دن الطاف صاحب پڑھا رہے تھے کہ میرے ذہن میں ایک سوال آیا۔ یقین مانیئے کہ میرے بولنے سے قبل الطاف صاحب نے لیکچر روکا، اور کہا کہ بھئی یہ چیز ایسے نہیں ایسے ہے۔ مجھے بہت عجیب محسوس ہوا۔ خیر کچھ دن بعد پھر یہی بات ہوئی۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی اتفاق ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر میرے کلاس فیلوز نے رائے دی کہ یار واقعی کچھ گڑبڑ ہے۔ ہم جو سوال سوچتے ہیں، پوچھنے سے قبل الطاف صاحب اس کا جواب دے رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں تو ڈر لگ رہا ہے۔

    جناب قاضی طارق صاحب، جو ہمیں کیلکولس پڑھاتے تھے، وہ بہت عظیم شخصیت ہیں۔ ان دنوں وہ ایم فل کر رہے تھے ریاضی میں۔ حساب کے حوالے سے وہ ایک بحر ذخار کا درجہ رکھتے ہیں۔ ایک ایسی شخصیت جو اپنے مضمون کی حد تک سب کچھ جانتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، میں ان سے بہت دور رہا۔ یہ دوری ذہنی تھی۔ ایک تو میری میتھ سے نفرت اور پھر دوسرا قاضی صاحب کا پڑھانے کا انداز کچھ ہمارے پلے نہ پڑ سکا۔ قاضی صاحب کی خوبی کہیں یا خامی کہیں، وہ ایک ایسے ٹیچر تھے کہ دوسرے ریاضی دان ان کی باتیں سن کر انگلی دانتوں میں دبائے رہ جاتے۔ لیکن ایک عام طالبعلم کے لئے شاید وہ اتنا اچھے استاد نہ رہے ہوں۔

    جناب مرزا یاسر عرفات صاحب، اپنے مضمون میں اتنے ماہر کہ محاورتاً نہیں حقیقتاً ہر کمانڈ اور ہر چیز انہیں رٹی ہوئی۔ جب وہ کی بورڈ پر ٹائپ کرتے تو یقین مانیئے کہ وہ کمانڈ ڈسپلے بعد میں ہوتی، وہ کمانڈ لکھ کر اینٹر کا بٹن پہلے دبا چکے ہوتے تھے۔ ان سے ہم نے علمی طور پر بہت کچھ سیکھا۔ عملی طور پر اس لئے کہ ایکسل اتنی مشکل نہ تھی

    آصف صاحب سے میری گپ شپ زیادہ تر مضمون سے ہٹ کر رہی کیونکہ اکاؤنٹنگ میں پہلے ہی بی کام کی کلاسز کی وجہ سے کافی جان چکا تھا۔

    اب آپ سوچیں کہ میری ان سب باتوں سے ٹیچنگ یا میرے پروفیشن کا کیا تعلق؟ جناب من، یہی ساری بات ہے۔ انہی اساتذہ نے مجھے سکھایا کہ استاد ہونا کیا چیز ہوتا ہے۔ لیکچر کو تیار کرنا، اسے ڈیلیور کرنا، اس کے بعد سٹوڈنٹس کو فیس کرنا، ان کے سوالات کے جوابات دینا، سوالات وہ سوالات کہ جو پوچھنے والے کو بقراط کے سوالات محسوس ہوں، اور آپ کو بطور ٹیچر ایک لطیفہ۔ اس کے بعد سٹوڈنٹ کے بھیجے میں (اگر ان کے پاس بھیجا ہو تو) یہ بات بٹھانا کہ یہ بات ایسے ہی ہے۔ وہ سوال جو میں نے اپنے دور میں اپنے اساتذہ سے کیئے، بعد ازاں جب میرے سٹوڈنٹس نے ہو بہو وہی سوال کیئے تو پتہ چلا کہ یہ سوال کتنے احمقانہ تھے۔ لیکن آفرین ہے کہ میری اپنے اساتذہ نے مجھے برداشت کیا۔ صرف ایک دن ایسا ہوا کہ الطاف صاحب نے مجھے کہا:

    "منصور! یہ میری بد دعا ہے اللہ کرے کہ تم استاد بنو، اور تمہیں ایسے ہی شاگرد ملیں جیسے کہ تم ہمیں ملے ہو۔"

    خیر میں نے یہ بات ہنسی میں اڑا دی۔ اس کےبعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ بد دعا محض بد دعا نہیں تھی۔ بلکہ نہایت دکھی ہو کر اور سچے دل سے کی جانی والی وہ دعا تھی جو اللہ پاک نے فوراً قبول فرمائی

    ٹیچنگ

    تو جناب دوستو صاحبو۔ آج تذکرہ ہو جائے کہ میں نے ٹیچنگ کب اور کیسے شروع کی، اس کی ارتقا کیسے ہوئی اور جب میں نے پاکستان کو چھوڑا تو اس وقت تک میں اپنے شہر کا بہترین ٹیچر کیسے بنا اور میرے بارے یہ کہاوتیں کیسے مشہور ہوئیں کہ "جو سٹوڈنٹ منصور صاحب سے پڑھ کر پاس نہ ہو، اسے پڑھائی چھوڑ دینی چاہیئے" اور یہ کہ "جو سٹوڈنٹ کہیں اور پڑھ کر پاس نہ ہو سکے، وہ منصور صاحب سے رابطہ قائم کرے"۔

    یوں تو میں نے بہت سے اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی، لیکن سب سے اہم دور وہ ہے جب میں نے کمپیوٹرز کے سلسلے میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ میرا حساب کا مضمون اتنا کمزور ہے کہ میٹرک میں میرے سینتیس نمبر آئے تھے، سو میں سے۔ لیکن بی کام میں مجھے جناب لالہ طاہر خان غلزئی صاحب سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ ہمیں سٹیٹ/میتھ کا مضمون پڑھاتے تھے۔ مجھے یہاں ایک بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس ہوتی کہ بی کام کی تعلیم میں نے اپنے ماموں کے حکم پر حاصل کرنا شروع کی تھی اور ماموں کا کہنا تھا کہ بی کام میں حساب کا مضمون بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ آپ کو دو جمع دو چار کرنا سیکھ لیں۔ یعنی نارمل حساب کتاب کرنا آجائے۔ خیر میں نے اس سلسلے میں یہی پلان کیا تھا کہ بھئی کلاسز لینے میں کیا حرج ہے۔ کچھ دن پڑھ کر چھوڑ دوں گا کہ بی سی ایس تو چل ہی رہی ہے۔

    لالہ طاہر خان غلزئی صاحب سے میری پہلی ملاقات بھی کافی مزیدار رہی۔ ہوا کچھ یوں کہ میں نے داخلہ کی معلومات لینے کے لئے گورنمنٹ کالج آف کامرس کا چکر لگایا۔ ماموں نے بتایا تھا کہ جناب لالہ طاہر خان غلزئی سے مل لینا، وہ اس کالج کے پرنسپل ہیں۔ خیر میں گورنمنٹ کالج آف کامرس گیا اور پرنسپل آفس سے پتہ کیا۔ لالہ طاہر صاحب ان دنوں پرنسپل تھے۔ پتہ چلا کہ کلرک آفس سے پتہ کروں۔ کلرک کے دفتر گیا تو میں نے کہا کہ لالہ طاہر صاحب سے ملنا ہے۔ ایک صاحب جو سادہ سی شلوار قمیض میں تھے، پوچھا جی سئیں۔ میں نے کہا کہ مجھے لالہ طاہر صاحب کے دوست ابراہیم فاروقی صاحب نے بھیجا ہے۔ وہ میرے ماموں ہیں۔ انہوں نے فوراً مجھے مصافحہ کیا اور کہا کہ بیٹھو۔ میں نے انہیں اب بھی نہیں پہچانا۔ شاید میرے چہرے پر ہونق پن کے آثار اتنے گہرے تھے کہ انہوں نے خود ہی کہہ دیا۔ بیٹا میں ہی لالہ طاہر ہوں۔ پھر انہوں نے مجھ سے براہ راست کہہ دیا کہ بیٹا ابراہیم صاب کو سلام دینا، اور کہہ دینا کہ داخلوں کو ختم ہوئے دو ماہ ہو چکے ہیں۔ اگلے داخلے اکتوبر میں ہوں گے۔ تب آجانا۔ کچھ کریں گے۔ میں اوپر اوپر سے بہت مایوس اور اندر اندر سے بہت خوش سا ہوا، اور ان کے ساتھ چائے پی اور پھر انہیں سلام کرکے چلا آیا۔


    خیر صاحبو، اور کوئی کام نہ سہی، پر یہ بی کام ہماری قسمت میں تھا، بھگتنا پڑا۔ داخلہ لیا۔ پتہ چلا کہ ہمارے سیشن میں دو لڑکیاں بھی ہیں۔ اور ہماری کلاس کے دو سیکشن ہوں گے۔ سیکشن اے جس میں دو لڑکیاں اور باقی کے آدھے لڑکے، سیکشن بی جس میں تمام لڑکے ہی لڑکے۔ لالہ جی پوچھا کہ کس سیکشن جانا ہے۔ اب مجھے معلوم تھا کہ میری رپورٹ براہ راست ماموں تک جانی ہے۔ اس لئے میں نے فوراً کہا کہ سر بی سیکشن میں جانا ہے۔ انہوں نے خوش ہو کر دیکھا اور کہا کہ ٹھیک ہے۔ سیکشن اے کے داخلوں کی لمبی سفارشی لسٹ کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھے۔ میری کلاس میں چند ایک لڑکے ایسے تھے کہ ان سے فوراً ہی سلام دعا اچھی ہوگئی۔ ان میں عون محمد، ناصر، ساجد عباس، ذوالقرنین انصاری، ارشد اقبال وغیرہ تھے۔

    ذوالقرنین سے داخلے کے دن بات شروع ہو گئی تھی میں داخلہ جمع کرا کے باہر لان میں آگیا کہ لسٹ کچھ دیر بعد لگنی تھی۔ تو ذوالقرنین میرے ساتھ آ بیٹھا۔ باتیں شروع ہوئیں تو پتہ چلا کہ لاہور سے ان کے والد کا ٹراسفر ہوا ہے اور یہ بھی اب ڈیرہ غازی خان میں آبسے ہیں۔ ان کے والد ڈویژنل انجینئر محکمہ انہار ہیں۔

    لالہ طاہر سے بات شروع ہوئی اور بہت دور چلی گئی۔ معذرت۔ اب اصل بات۔ لالہ طاہر نے بتایا کہ انہوں نے ہمیں بزنس میتھ اور سیٹیٹ کا مضمون پڑھانا ہے۔ یقین کیجئے کہ میں نے پہلے دن سے یہی سوچ کر کلاس لی کہ جناب، کون سا سیریس ہو کر پڑھنا ہے، بس رسمی سا کچھ دن تو آنا ہے۔ لہٰذا میتھ پر کیا توجہ دینی۔ خیر لالہ جی نے شروع کیا۔ روانی میں مجھے تب پتہ چلا جب ان کا لیکچر ختم ہو چکا تھا، اس کے بعد انہوں نے مشق کے لئے سوال بھی دیا اور میں وہ سوال سب سے پہلے حل کرکے چیک کرا چکا ہوں، اور جواب بالکل درست ہے۔ یہاں میں کچھ دیر کے لئےبالکل ششدر رہ گیا۔ یقین مانیئے مجھے لالہ جی کی اس بے ایمانی پر بڑا غصہ آیا کہ انہوں نے اتنا اچھا کیوں پڑھایا۔ اگلے دن میں نے پلان کیا کہ بھئی اب ایسی ایسی باتیں سوچنی ہیں کہ لالہ جی کی بات ہی نہ سن سکوں۔ خیر بہت لمبے لمبے پلان بنائے۔ لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔ یعنی حسب معمول لیکچر کے اختتام پر جب مجھے ہوش آیا تو میں سب سے پہلے مشقی سوال حل کرکے اس کو چیک کرا چکا تھا اور وہ حسب معمول اور خلاف توقع بالکل درست تھا
    اب میری سازش ناکام ہوتی دکھائی دی۔ خیر پھر وہی کہ مرتا کیا نہ کرتا، پیریڈز لینا پڑے اور پہلے تعلیمی سال کے اختتام پر پتہ چلا کہ میں کلاس کے چند ایک بہت ہی اچھے طلبا میں شمار ہوتا ہوں۔ یہ اچھے طلبا نہ صرف میتھ سٹیٹ بلکہ دیگر اکثر مضامین کے حوالے سے بھی۔

    ویسے مجھے اب یقین آرہا ہے کہ میں بہت باتیں کرتا ہوں۔ ابھی تک اصل موضوع کا علم نہیں ہو پایا۔ چلیں، بی سی ایس کے دوران میں نے پہلی بار بولنا شروع کیا۔ بولنا شروع کیا سے مراد یہ ہے کہ میں نے نارمل گپ شپ کرنا شروع کی۔ ورنہ اسے سے قبل شاید ہی میں نے کبھی کسی دوست سے روٹین کی گپ شپ کی ہو۔

    بی سی ایس میں میرے اساتذہ کرام جناب فرحان کریم خان جسکانی، جناب الطاف حسین، جناب قاضی محمد طارق اور جناب مرزا یاسر عرفات صاحب پہلے سمسٹر کے دوران ملے۔ جناب فرحان کریم خان جسکانی صاحب نے ہمیں کمپیوٹر فنڈا منٹل اینڈ آرکیٹیکچر اور کوبول پروگرامنگ لینگوئج پڑھائی تھی۔ انہوں نے ابتدا یعنی پہلے دن سے میری بہت حوصلہ افزائی کی تھی۔ اس کے بعد جب سے آپریٹنگ سسٹم کے لئے جناب الطاف صاحب ملے تو گویا منہ مانگی مراد ملی۔